ابنا: سیاسی امور میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ونڈے شرمن نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ باراک اوباما فلسطینی ریاست کی تشکیل سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی ہر قرار داد کو ویٹو کردیں گے۔ یہ پہلی بار ہوا کہ امریکہ کے ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے باضابطہ طور پر ایک صراحت کے ساتھ فلسطینی ریاست تسلیم کۓ جانے پر مبنی قرارداد مسترد کرنے کی بات کی ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل اور دنیا کے ممالک کی جانب اس کی حمایت کۓ جانے کا معاملہ تل ابیب اور واشنگٹن کے لۓ اس حد ناخوش آئند ہے کہ اب وہ بغیر کسی رواداری کے ایک جانب دنیا کو فلسطینیوں کا ساتھ دینے سے روک رہے ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ میں اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ فلسطین پر چھ عشروں پر محیط قبضے کے دوران وائٹ ہاؤس نے ہمیشہ صہیونی ریاست کی اقتصادی اور سیاسی حمایت کر کے اسے تحفظ فراہم کیا ہے۔ اور اس حکومت کو فلسطینی عوام پر ظلم ڈھانے کے سلسلے میں کھلی چھوٹ دی ہے۔ اس لۓ امریکہ کو ایسا ملک قرار دیا جاسکتا ہے جس نے غاصب صہیونی ریاست کی حمایت میں ویٹو کا غیر منصفانہ حق استعمال کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اور صہیونی ریاست کے سیاہ نامہ اعمال میں بھی ایسی دسیوں قراردادیں موجود ہیں جو قبضے کے چھ عشروں کے دوران اقوام متحدہ اور بین الاقوامی نظام نے اس غاصب حکومت کی مذمت میں منظور کی ہیں۔ ان میں سے بہت سی قراردادیں امریکہ کی جانب سے صہیونی ریاست کی حمایت اور ویٹو کے غیر منصفانہ حق کے استعمال کی وجہ سے اقوام متحدہ کی آرکائیو میں بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ فلسطین پر قبضے سے لے کر آج تک اقوام متحدہ نے ہر سال قرار دادیں منظور کر کے صہیونی ریاست کو مظالم ، قبضے ، جنگی جرائم ، نسل کشی اور اس کی جانب سے فلسطینیوں کے مقدسات کی بے حرمتی جیسے اقدامات سے منع کیا ہے ۔ جبکہ صہیونی امریکہ کی ہمہ گیر حمایت کی بنا پر اپنے ناجائز قیام کے اعلان سے اب تک ہمیشہ فلسطین کی جغرافیائي حدود اور آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں لانے کے درپے رہے ہیں تاکہ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کے تمام دروازے ہمیشہ کےلۓ بند ہوجائیں ۔ فلسطین پر قبضے کو تریسٹھ برس کا عرصہ گزر رہا ہے اس دوران امریکہ نام نہاد امن مذاکرات کا کھیل کھیلتا رہا ۔ ان مذاکرات کا نتیجہ وقت ضائع ہونے اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ملنے والے بموں اور میزائیلوں کے مظلوم فلسطینی عوام پر برساۓ جانےکے سوا کچھ اور برآمد نہ ہوا۔ اس لۓ اب فلسطینیوں نے چھ عشروں کے عرصے میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں اقوام عالم سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست تشکیل پاتی ہے تو اس سے فلسطینیوں کے بعض آلام ہی ختم ہوں گے کیونکہ یہ علاقے فلسطینی سرزمین کا کچھ حصہ ہے اور وہ بھی اس وقت یہودی بستیوں اور باڑھ کے محاصرے میں ہے۔ اور امریکہ اور صہیونی ریاست فلسطینیوں کو ان کے بعض حقوق ملنے کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اور وائٹ ہاؤس نے آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل سے متعلق قرار داد ویٹو کرنےکی دھمکی دے کر ابھی سے فلسطینیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔
...........
/169